اسلام آباد / پشاور (نمائندہ خصوصی)
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کے خلاف ۲۰ ستمبر سے کراچی سے اسلام آباد کی جانب ’سپر لانگ مارچ‘ اور ’ٹرین مارچ‘ کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے اور نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کو احتجاج کا کوئی شوق نہیں، اگر حکومت آج ہی پٹرولیم لیوی کا ظالمانہ فیصلہ واپس لے اور اسے ختم کر دے تو مارچ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
جماعت اسلامی کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق:
۲۰ ستمبر: حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں کراچی سے ٹرین مارچ کا آغاز ہوگا۔
۲۱ ستمبر: مارچ ملتان پہنچے گا۔
۲۲ ستمبر: روڈ کارواں لاہور سے آگے روانہ ہوگا۔
۲۳ اور ۲۴ ستمبر: پنجاب اور خیبر پختونخوا کے تمام قافلے اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ صرف سیاسی پارٹیوں کے بدلنے سے ملک کے حالات نہیں بدلتے کیونکہ جن جماعتوں میں مافیا موجود ہو، وہ ان کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے حکومت کو معاشی بہتری کے لیے تجاویز پیش کی تھیں لیکن انہیں تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ خیبرپختونخوا حکومت کو بھی عوامی مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے کیونکہ نہ معیشت سنبھل رہی ہے اور نہ ہی امن قائم ہو رہا ہے۔
اپنے خطاب میں امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور کسانوں نے ان کے اس مارچ کی حمایت کی ہے اور جماعت اسلامی نے بھی ان کے مطالبات کی تائید کی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کنٹینر لگائے، سڑکیں کھودے یا سیکیورٹی فورسز لائے، عوام اپنے آئینی اور پُرامن حق کے لیے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اگر راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی کی گئی تو اسے دور کر کے آگے بڑھا جائے گا۔