banahtv.com
لوڈ ہو رہا ہے...
بریکنگ نیوز
انٹرٹینمنٹ May 22, 2026 54 Views

مسلمانوں کے درجنوں مکانات بلڈوزر کے ذریعے مسمار

Damage House in Kashmir

سرینگر / بناہ ویلی نیوز (اسپیشل رپورٹ)

مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے ایک بار پھر کشمیری مسلمانوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ تیز کرتے ہوئے بربریت کی تمام حدیں پار کر دیں۔ انتظامیہ نے مسلمانوں کے خلاف ایک بڑی اور متعصبانہ کارروائی کے دوران درجنوں رہائشی مکانات کو مسمار کر کے سینکڑوں افراد کو بے گھر کر دیا۔

بھارتی جریدے کی رپورٹ کے مطابق، قابض حکام نے کشمیر کے ایک علاقے میں تقریباً 60 کنال اراضی پر قائم 20 سے 30 مکانات کو "جنگلات کی زمین" قرار دے کر بلڈوزروں کی مدد سے ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔

انتظامیہ کے اپنے ہی وزیر پھٹ پڑے

اس وحشیانہ کارروائی پر خود مقبوضہ کشمیر کے وزیرِ جنگلات چوہدری جاوید رانا نے کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے اس مہم کو سراسر "وحشیانہ اور متعصبانہ" قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

  • جاوید رانا کا مؤقف: "متاثرہ مسلمان خاندان کئی دہائیوں سے ان وراثتی زمینوں پر آباد تھے۔ یہ کارروائی ایک منظم اور ظالمانہ بے دخلی کی مہم کا حصہ ہے، جس کا واحد مقصد مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا اور انہیں ان کی اپنی ہی زمینوں سے محروم کرنا ہے۔"

لارڈ نذیر احمد کا شدید ردِعمل

مقبوضہ کشمیر میں جاری اس ریاستی جبر پر برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کے سابق رکن لارڈ نذیر احمد نے بھی گہرے دکھ اور غصے کا اظہار کیا ہے۔

"مسلمانوں کے گھر مسمار کرنا مودی حکومت کی اس گہری سازش کا حصہ ہے جس کے تحت وادی کا مسلم اکثریتی تشخص تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بے گناہ شہریوں کے گھروں کو بے دردی سے مسمار کرنا جنیوا کنونشن اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔" — لارڈ نذیر احمد

اس خبر کو شیئر کریں:
مزید پڑھیں

عظمیٰ بخاری کو 8 کروڑ 40 لاکھ روپے کے ہتکِ عزت کیس میں کامیابی

برطانوی کنزرویٹو رہنما کا دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے فلاحی بجٹ میں کمی کا مطالبہ

گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ کے وفاقی حکومت کو نوٹس

برطانیہ میں ہیتھرو ایئرپورٹ کے تیسرے رن وے کی تعمیر کی حمایت

گورنر راج کے خلاف خیبرپختونخوا میں وکلا کی ہڑتال کا اعلان

Advertisement