banahtv.com
لوڈ ہو رہا ہے...
بریکنگ نیوز
انٹرٹینمنٹ April 28, 2026 141 Views

خونی لکیر اور بہتے آنسو

Muzafarabad, Neelum, Azad Kashmir,Indian Occupied Kashmir,Neelum Valley

سری نگر/مظفرآباد: کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ایک بار پھر انسانی المیے کی ایسی تصویر سامنے آئی ہے جس نے دیکھنے والوں کی روح جھنجھوڑ دی ہے۔ وادی نیلم کے مقام پر ایک کشمیری بھائی کی وفات نے یہ ثابت کر دیا کہ سرحدیں زمین کو تو بانٹ سکتی ہیں، لیکن خون کے رشتوں کی تڑپ کو ختم نہیں کر سکتیں۔ کیرن (مقبوضہ کشمیر) کے رہائشی اور سرکاری افسر راجہ لیاقت علی خان طویل عرصے سے اپنے ان بہن بھائیوں سے جدا تھے جو نوے کی دہائی میں نقل مکانی کر کے آزاد کشمیر چلے گئے تھے۔ ہفتے کے روز جب ان کا انتقال ہوا، تو دریا کے اس پار مقیم ان کے پیاروں کے لیے یہ خبر کسی قیامت سے کم نہ تھی۔

دریائے نیلم کی لہریں، جو دونوں کشمیروں کے درمیان ایک قدرتی سرحد کا کام کرتی ہیں، اس روز ایک ناقابلِ عبور رکاوٹ بن گئیں۔ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مقیم شگفتہ بانو اور نثار خان اپنے بھائی کے جنازے میں شرکت کے لیے تڑپتے رہے، لیکن ویزہ کی بندش اور سرحدوں کی سنگینی نے انہیں اپنے بھائی کا آخری دیدار کرنے سے بھی محروم رکھا۔ مجبوری کے عالم میں، مقبوضہ کشمیر میں موجود رشتہ داروں نے راجہ لیاقت کی میت کو دریا کے بالکل کنارے ایک بلند مقام پر رکھا اور چارپائی کو فضا میں بلند کیا تاکہ دوسری طرف موجود ان کا خاندان اپنے پیارے کا چہرہ دیکھ سکے۔ اس موقع پر دریا کے دونوں کناروں پر ایسا کہرام مچا کہ فضا سوگوار ہو گئی۔

آزاد کشمیر کے مہاجر کیمپ میں مقیم شگفتہ بانو نے نم آنکھوں سے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "یہ کیسی تقسیم ہے کہ میں اپنے بھائی کے ماتھے کو چوم بھی نہ سکی اور وہ منوں مٹی تلے جا سویا۔" ان کے بھائی نثار خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بھائی کے جنازے کو کندھا تک نہ دے سکے، جو ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ رہے گا۔ کیرن کے اس حساس علاقے میں آباد ہزاروں خاندان آج بھی ایسی ہی تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ واقعہ محض ایک موت کی خبر نہیں، بلکہ ان لاکھوں کشمیریوں کی ترجمانی ہے جو دہائیوں سے اپنوں سے ملنے کی آس لیے جی رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ اس انسانی مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ سرحدیں اب مزید جنازوں اور آنسوؤں کا سبب نہ بنیں۔

اس خبر کو شیئر کریں:
مزید پڑھیں

عظمیٰ بخاری کو 8 کروڑ 40 لاکھ روپے کے ہتکِ عزت کیس میں کامیابی

برطانوی کنزرویٹو رہنما کا دفاعی اخراجات بڑھانے کے لیے فلاحی بجٹ میں کمی کا مطالبہ

گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ کے وفاقی حکومت کو نوٹس

برطانیہ میں ہیتھرو ایئرپورٹ کے تیسرے رن وے کی تعمیر کی حمایت

گورنر راج کے خلاف خیبرپختونخوا میں وکلا کی ہڑتال کا اعلان

Advertisement